وزیر اعظم کا یومِ عاشورہ 1439 ہجری کے موقع پر قوم کے نام پیغام ی

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شاہد خاقان عباسی کا
یومِ عاشورہ 1439 ہجری کے موقع پر قوم کے نام پیغام
 
یوم عاشور ہر سال اسلامی تاریخ کے اس لازوال واقعے کی یاد دلاتا ہے جب نواسہ رسول A018; نے حق اور باطل کی لڑائی میں اپنے اور اپنے رفقاء کی جانوں کا نذرانہ دے کر حق کو حقیقی فتح سے سرفراز کیا ۔ کربلا کے میدان میں شہیدوں کے لہو نے یہ ثابت کر دیا کہ حق لازوال جب کہ باطل مٹنے کے لئے ہے۔ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے ظلم وجبر کی اطاعت کرنے کے بجائے شہادت کا راستہ اختیار کیا اور حق و صداقت کا علم سربلند کر دیا۔آپؓ نے صبرو استقامت ، جرات اور بہادری کے ساتھ حقِ حریت کی حفاظت کا پیغام دیا جو آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے ۔
حضرت امام حسینؓ کو نہ تو ملک گیری کی ہوس تھی اور نہ ہی وہ ذاتی اقتدار کے خواہاں تھے بلکہ ان کا مشن دین اسلام کی حفاظت و سربلندی اور ظلم و جبرکے خلاف حق کا علم بلند کرناتھا۔ یزیدیت کے مقابلے میںآپؓ کی عظیم قربانی نے جہاں دینِ اسلام کو تا قیامت سرخرو کیا وہاں اسلام کے پیروکاروں کے لئے ایک لازوال اور ابدی مثال قائم کی کہ حق اور انصاف کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔
 
یومِ عاشور جہاں امام عالی مقام اور انکے عظیم رفقاء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے وہاں یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام کو دلی طور پر سمجھیں اور امام حسینؓ کی جانب سے ایثارو قربانی کی لازوال مثال پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔ یزیدیت درحقیقت ایک سوچ کا نام ہے جس کا مقصد ظلم و جبر کا نظام قائم کرنا ہے اوراپنے مذموم مقاصد کے مظلوموں کے خون کی ہولی کھیلنا ہے۔ آج کے دِن ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو اپنے خود غرضانہ مفادات کے لئے ہمارے معاشرے کے وجود اور اتحاد و اتفاق کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔موجودہ دور میں وطنِ عزیز اور قوم کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر ہمیں فروعی،مسلکی،لسانی و دیگر اختلافات کو بھلا کر اپنے اندر ایثار و قربانی، مساوات،رواداری،اتحاد اور نظم و ضبط جیسے اعلیٰ اوصاف کو فروغ دینا ہوگا۔