برہان وانی شہید کی برسی کے موقع پر وزیراعظم محمد نواز شریف کا پیغام

 
برہان مظفر وانی تحریک آزادی کشمیر کے ایک نئے باب کا عنوان ہے۔ ایک سال پہلے اس جواں سال شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے لہو سے جو چراغ روشن کیا، اس سے آج پوری وادی میں چراغاں ہے۔ 
اس شہادت نے اس حقیقت کو آخری درجے میں ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے سرشار ہے اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں۔اسلحہ کے زور پر قوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچلا جا سکتا ۔بھارت کو یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تاریخ کو اندھا نہیں کیا جا سکتا۔
 
مقبوضہ کشمیر کی یہ تحریک آزادی مقامی اور ہر طرح کی بیرونی مداخلت کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔برہان وانی کی شہادت نے اس بھارتی پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ آزادی کشمیر کی تحریک کسی خارجی مداخلت کے زیر اثر ہے۔ گذشتہ ایک سال میں کرفیو، سیکورٹی فورسز کے سنگدلانہ اقدامات اور ریاستی ظلم کے باوجود، جس طرح مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اپنے شہیدوں کے جنازوں میں شرکت کی اور علم حریت کو بلند رکھا، معاصر تاریخ میں اس کی مثال موجود نہیں۔
 
برہان وانی کا یوم شہادت ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا یہ بازار گرم رہا، انسانی حقوق کی اس وسیع پیمانے پر خلاف ورزی ہوتی رہی ،عام شہریوں کو آہنی چھروں سے اندھا کیا جاتا رہا ہے تو پھر دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ شہادت عالمی برادری اور اور قوتوں کو بھی متوجہ کر تی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے آنکھیں نہیں چرا سکتے، یہ شہادت سوال کرتی ہے کہ کیا کشمیری انسان نہیں؟ کیا ان کے بنیادی حقوق نہیں؟ کیا حق خودارادیت کشمیریوں کا مسلمہ حق نہیں ہے جو انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حاصل ہے۔اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اس بین الاقوامی ادارے کی ساکھ پر منفی اثر پڑے گا۔عالمی برادری کی قانونی او راخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ 
 
پاکستانی قوم برہان وانی کی یوم شہادت پر مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں سے مکمل طور پر اظہار یکجہتی کرتی ہے اور اپنے اس عزم کو دہراتی ہے کہ کشمیریوں کی ہر طرح کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
 
پاکستان اور کشمیریوں کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے اور مصیبت کے ان لمحوں میں ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے جس طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن منایا ،وہ ریفرنڈم کا درجہ رکھتا ہے۔ 
 
اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو اور ان کی جانوں کی ارزانی کا یہ سلسلہ جلد از جلد ختم ہو، ہم بھارت کو بھی متنبہ کرتے ہیں تو اگر ظلم کا یہ سلسلہ ختم نہ ہوا تو خود بھارت کے اندر سے ان مظلوموں کی حمایت کیلئے ایک تحریک برپا ہوگی کیونکہ ظلم کو انسانی فطرت قبول نہیں کرتی۔ بھارت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرے اور عالمی برادری کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو ان قراردادوں کے احترام پر مجبور کرے۔
 
*****